حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلام آباد/ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے زیر اہتمام منعقدہ ’’شہدائے مقاومت و تجدید عہد کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ اور قائد حزب اختلاف سینیٹ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ پاکستان کو یمن جنگ میں کسی صورت فریق نہیں بننا چاہیے۔ 2015ء میں پاکستان کی پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا تھا کہ پاکستان یمن تنازعے کا حصہ نہیں بنے گا اور اپنی فوج وہاں نہیں بھیجے گا۔ موجودہ حالات میں اس پارلیمانی فیصلے سے انحراف پاکستان کے قومی مفادات، خودمختاری اور عوامی امنگوں کے منافی ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ یمن کی جانب سے پاکستان کو ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش موجود ہے۔ میں نے وزیراعظم کو خط لکھا اور انہیں اس معاملے کی حساسیت سے آگاہ کیا۔ وزیر خارجہ سے بھی سوال کیا کہ جب ہم خود اس تنازعے میں ایک فریق بنتے دکھائی دے رہے ہیں تو پھر ثالثی کیسے کر سکتے ہیں؟ پاکستان کو کسی مسلمان ملک کے خلاف جنگ کا حصہ بنانے کے بجائے جنگ بندی، مذاکرات اور امن کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ آخر کس کی اجازت سے پاکستان کو اس تنازعے میں فریق بنایا جا رہا ہے؟ حکومت کو چاہیے کہ پاکستان کو اس دلدل سے باہر نکالے۔
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ یمن کے عوام کو فلسطین کے مظلوموں کی حمایت اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف آواز بلند کرنے کی سزا دی جا رہی ہے۔ یمن نے غزہ کے مظلوم عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور اسرائیلی مفادات کو چیلنج کیا۔ ہم یمن کے مظلوم عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان پر ہونے والے مظالم کی مذمت کرتے ہیں، خواہ ان مظالم میں کوئی بھی طاقت ملوث ہو۔ پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی کسی دوسری ریاست کے مفادات کے تابع نہیں کرنی چاہیے۔
انہوں نے ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملوں اور رہبرِ شہید کی شہادت کے ذریعے یہ سمجھا گیا کہ قیادت کو نشانہ بنا کر ایرانی قوم کو خوف زدہ اور چند گھنٹوں میں سرنڈر کرنے پر مجبور کر دیا جائے گا، لیکن یہ اندازہ غلط ثابت ہوا۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑی بڑی سلطنتیں اپنی غلط حکمت عملی، تکبر اور غلط اندازوں کے باعث زوال پذیر ہوئی ہیں۔ ایران نے غیرت، شجاعت، حکمت اور استقامت کے ساتھ مقابلہ کیا۔ فلسطین کے مظلوم عوام کی حمایت اور خطے میں اسرائیلی بالادستی کے خلاف مزاحمت ایک اصولی مؤقف ہے۔
قائد حزب اختلاف سینیٹ نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے خطے کا سیاسی و جغرافیائی نقشہ تبدیل کرنے، ممالک کو تقسیم کرنے اور مزاحمتی قوتوں کو ختم کرنے کے منصوبے خطے کے امن کے لیے خطرناک ہیں۔ یہ جنگ صرف ایران کا معاملہ نہیں بلکہ پورے خطے کے مستقبل، فلسطین کے مسئلے اور امت مسلمہ کے اجتماعی مفادات سے جڑی ہوئی ہے۔ پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں آزادانہ فیصلے کرنے چاہئیں، نہ کہ عالمی طاقتوں کی خوشنودی کے لیے اپنی قومی خودمختاری اور وقار کو داؤ پر لگانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے حکمرانوں نے عالمی طاقتوں کی خوشامد اور چاپلوسی کو سفارت کاری سمجھ لیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ جیسے حکمرانوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے غیر ضروری تعریفیں اور امن کے نوبل انعام کے لیے نامزدگی جیسے اقدامات قومی وقار کے منافی ہیں۔ دنیا میں عزت سر جھکانے سے نہیں بلکہ خودداری، اصولی مؤقف اور قومی مفادات کے تحفظ سے حاصل ہوتی ہے۔
پاکستان کی داخلی صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ پاکستان کسی فرد، ادارے، اشرافیہ یا سیاسی مافیا کی جاگیر نہیں بلکہ یہ ملک اس کے عوام کی امانت ہے۔ یہ بلوچوں، سندھیوں، پنجابیوں، پشتونوں، گلگت بلتستان کے عوام اور کشمیریوں سمیت تمام پاکستانیوں کا ملک ہے۔ ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے، اسے اپنے شہریوں کی جان، مال، عزت اور حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے، نہ کہ اپنے ہی عوام کے ساتھ محاذ آرائی اختیار کرے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا، بلوچستان، کشمیر اور ملک کے دیگر علاقوں میں عوامی حقوق، سیاسی آزادیوں اور بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے جو صورتِ حال پیدا کی جا رہی ہے، وہ قابلِ تشویش ہے۔ ریاستی طاقت کا استعمال مسائل کا حل نہیں۔ عوام کے ساتھ مکالمہ، انصاف اور اعتماد کا رشتہ قائم کرنا ہوگا۔ جبری اقدامات اور سیاسی انتقام سے ریاست اور عوام کے درمیان خلیج مزید وسیع ہوگی۔
سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کو عوامی اعتماد اور قومی مفاہمت کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ عمران خان ملک کا ایک بڑا سیاسی اثاثہ ہیں اور عوام کا ایک بڑا طبقہ ان پر اعتماد کرتا ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا سمیت تمام محروم علاقوں کے مسائل کے حل کے لیے ایسی سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینا ضروری ہے جس پر عوام اعتبار کرتے ہوں۔ عوامی اعتماد کے بغیر کوئی حکومت مستحکم نہیں رہ سکتی۔ نہ ایٹمی طاقت، نہ فوجی قوت اور نہ ہی جبر و استبداد عوامی حمایت کا متبادل بن سکتے ہیں۔
کانفرنس سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے وائس چیئرمین علامہ سید احمد اقبال رضوی، چیف آرگنائزر سید ناصر عباس شیرازی، مرکزی سیکرٹری سیاسیات سید اسد عباس نقوی سمیت دیگر مرکزی و صوبائی رہنماؤں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے شہدائے مقاومت کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے مظلوم فلسطینی و یمنی عوام کے ساتھ یکجہتی، قومی خودمختاری، امتِ مسلمہ کے اتحاد اور آئین و قانون کی بالادستی کے عزم کا اعادہ کیا۔










آپ کا تبصرہ